نئی دہلی، 7/جون(ایس او نیوز/ایجنسی) اڈیشہ کے ضلع بالاسور میں ہونے والے بھیانک ٹرین حادثے پر جہاں اب تک ملک میں سوگ کا عالم ہے وہیں اپوزیشن پارٹی کانگریس نے مرکزی حکومت اور وزارت ریل سے سخت سوالات کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ اسی دوران مرکزی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی نے جانچ شروع کردی ہے جس پر کانگریس نے سخت اعتراض کیا اور کہا کہ سی بی آئی سے جانچ صرف آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے کیوں کہ سرکاراصل بات سامنے لانا ہی نہیں چاہتی ہے۔
حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش اور پارٹی ترجمان سپریہ شرینیت نے نے علاحدہ علاحدہ پریس کانفرنس کیں لیکن دونوں کا موقف یہی تھا کہ سچائی سامنے لائی جائے۔ سی بی آئی جانچ کے نام پر آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش نہ کی جائے۔ جے رام رمیش نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ بالاسور ٹرین حادثہ پر ریلوے سیفٹی کے کمشنر کی طرف سے اپنی رپورٹ پیش کرنے سے پہلے ہی سی بی آئی جانچ کا اعلان کر دیا گیا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کچھ چھپانا چاہتی ہے۔ انہوں نے اندور۔پٹنہ ایکسپریس ٹرین حادثہ کی تحقیقات این آئی اے کو سونپنے کے حکومت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کانپور کے قریب نومبر ۲۰۱۶ء میںپٹری سے اتر گئی تھی اور ۱۵۰؍سے زائد مسافر ہلاک ہوگئے تھے۔ اس وقت بھی جانچ این آئی اے کے سپرد کی گئی تھی لیکن اس جانچ کا کیا ہوا یہ اب تک سامنے نہیں آیا جبکہ حادثے کو ۷؍ سال ہوچکے ہیں۔
کانگریس میڈیا انچارج جے رام رمیش نے سرکار سے کچھ چبھتے ہوئے سوال بھی پوچھے۔ انہوں نےچند مثالوں کا ذکر کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا واقعی سی بی آئی اور این آئی اے ایسے واقعات میں کچھ کر پائیں گے؟انہوں نے سی بی آئی سے پوچھا کہ کیا وہ اس بات کی بھی تحقیقات کرے گی کہ ٹریک کی مرمت اور نئی پٹری بچھانے کا بجٹ کیوں کم کیا گیا ؟کیا سی بی آئی اس بات کا پتہ لگائے گی کہ ریل چنتن شیویر میں جب ہر زون کو سیکوریٹی پر بات کرنی تھی تو صرف ایک زون کو کیوں بولنے کی اجازت دی گئی اور کیمپ کی پوری توجہ ’وندے بھارت ‘پر کیوں تھی؟کا نگریس کے ترجمان نے کہا کہ کیا سی بی آئی اس بات کا پتہ لگائے گی کہ سی اے جی کی رپورٹ میں یہ ذکر کیوں ہے کہ ۲۰۱۷ءسے ۲۰۲۱ء کے درمیان ۷؍ بڑےحادثات ٹرین کے پٹری سے اترنے کی وجہ سے ہوئے ہیں
ادھر سپریہ شرینیت نے بھی کانپور حادثے کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ ۲۰۱۷ء میں خود وزیر اعظم نے کہا تھا کہ کانپور حادثہ ایک سازش ہے اور ہم تمام خاطیوں کو سخت سے سخت سزا دیں گے لیکن اب تک جانچ کا کیا ہوا کسی کو نہیں معلوم۔ انہوں نےطنز کیا کہ جس طرح سے کانپور حادثے کی جانچ کو دبادیا گیا بالکل اسی طرح بالاسور حادثے کی جانچ بھی دبانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ واضح رہے کہ اس حادثے کے معاملے میں حکومت کا موقف یہ ہےکہ انٹر لاکنگ سسٹم کو سبوتاژکیا گیا ہے اسی لئے سی بی آئی سے تفتیش کروائی جارہی ہے۔ سی بی آئی نے بھی منگل سے جانچ کی شروعات کردی ہے۔ اس کی ایک ٹیم نے بالاسور میں جائے حادثہ پر پہنچ کر حادثے کا شکار ہونے والے ڈبوں کا جائزہ لیا ۔ بتایا جا رہا ہے کہ سی بی آئی کی تفتیش کی بنیاد ادیشہ پولیس کی ایف آئی آر ہی ہے۔ اس رپورٹ میں حادثے کو تکنیکی خامی اور انٹر لاکنگ سسٹم کی خرابی قرار دیا گیا ہے۔ اس میں سبوتاژکا کہیں بھی ذکر نہیں ہے۔ اسی وجہ سے کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں یہ سوال اٹھا رہی ہیں کہ حکومت سی بی آئی جانچ کے ذریعے صرف اور صرف دھیان بھٹکانا چاہتی ہے۔ دوسری طرف ریاستی حکومت نے لاشوں کی شناخت کے لئے ڈی این اے کے نمونے اکٹھا کرنا شروع کردئیے ہیں۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ چونکہ لاشیں بہت تیزی کے ساتھ خراب ہو رہی ہیں اور اب تک ۱۰۰؍ سے زائد لاشوں کی شناخت نہیں ہو سکی ہے اس لئے ڈی این اے جانچ ضروری ہو گئی ہے۔ اسی کے تحت ادیشہ حکومت کی ایک فارینسک ٹیم ڈی این اے کے نمونے اکٹھا کررہی ہے۔